چینائی 5 جون (ایس او نیوز) دس سال سے 18سال کے درمیان والی سات لڑکیاں پانی سے بھرے گڈھے میں غرق ہوگئیں، حادثہ تمل ناڈو کے کُڈالور کے قریب گیڈیلم ندی پر بنے ایک چیک ڈیم کے قریب اتوار دوپہر قریب 2.45 1 بجے پیش آیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق چینائی سے قریب 186 کلو میٹر دور کیڈالور کے قریب کوچی پالیم میں ایک چیک ڈیم سے متصل ندی میں پانی سے بھرے کئی گڈھے پائے جاتے ہیں، جن میں بعض گڈھے کافی گہرے ہیں، حال ہی میں بارش کی وجہ سے ان گڈھوں میں پانی بھرا ہوا ہے اور لوگ یہاں تیرنے کے لئے آتے ہیں۔
تمل ناڈو کے معروف اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق گیڈیلیم ندی کے اطراف واقع پانی کے گڈھوں میں جو 15 فٹ گہرے ہیں، لڑکیاں نہانے کے لئے اُتری تھیں، جب اُن میں سے دو لڑکیاں گڈھوں کے گہرے حصے میں پہنچ کر پھنس گئیں اور ڈوبنے لگیں تو دیگر لڑکیاں اُنہیں بچانے کے لئے آگے بڑھیں جس کے نتیجے میں وہ خود بھی گہرے گڈھے میں غرق ہوتی چلی گئیں۔ اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو سروس کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور تمام نعشوں کو باہر نکالا اور کُڈالور سرکاری اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لئے منتقل کیا۔
مرنے والوں کی شناخت آر ۔پریا۔ درشنی (15)، اس کی دس سالہ بہن دیویا۔ درشنی، اے مُنیشا (16)، ایم نونیتا (18)، کے پریا (18)، ایس سانگوی (16) اور ایم کومودھا (18) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ ابتدائی دو بہنیں ایان کُرنجیپاڈی دیہات کی ہیں جبکہ دیگر پانچ لڑکیاں کُوچیپالیم دیہات کی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ چیک ڈیم کے قریب واقع ندی میں کئی گہرے گڈھے موجود ہیں اور اُن میں پانی بھرنے کی وجہ سے اکثر بچے وہاں تیرنے کے لئے آتے ہیں۔
اندوہناک واقعے پر تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ اسٹالین نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر لڑکیوں کے لواحقین کو چیف منسٹر س پبلک ریلیف فنڈ سے فی کس پانچ پانچ لاکھ روپیہ امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر اگریکلچر اینڈ فارمرس ویلفئیر منسٹر پنیر سیلوم نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ حادثے کے تعلق سے جانچ کے احکامات دئے گئے ہیں اور ندی میں پائے جانے والے گڈھوں کو بھرنے سمیت مزید اس طرح کے حادثات رونما ہوں، اس طرح کے اقدامات کیے جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پنیر سیلوم نے فوری طور پر آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے اپنی جانب سے مہلوک لڑکیوں کے خاندان والوں کو پچیس پچیس ہزار روپیوں کی امداد بھی فراہم کی ہے۔